My WordPress Blog

کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا بحران، ہائیکورٹ کا سخت نوٹس؛ متعلقہ افسران کو ذاتی

کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا بحران، ہائیکورٹ کا سخت نوٹس؛ متعلقہ افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

 

*کوئٹہ (بلوچستان ٹی وی ) چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ، لوکل بسوں، رکشوں اور ٹریفک کے مسائل سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جامع رپورٹس طلب کرلیں اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے متعلقہ افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔*

 

*سماعت کے دوران جنرل سیکریٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ ڈویژن نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، جس میں کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے فیڈر روٹس پر 27 الیکٹرک گاڑیوں، کوئٹہ کے لیے 2 الیکٹرک بسوں اور صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے 10 ڈیزل بسوں کی فراہمی سمیت مختلف اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔*

 

*رپورٹ میں وکلاء کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم، سریاب روڈ پر لوکل بس اسٹینڈ کے لیے زمین کی منتقلی، کوئٹہ، کچلاک روٹ پر کوسٹرز کے اجازت نامے، غیر قانونی اور مقررہ تعداد سے زائد رکشوں کے خلاف کارروائی اور 9 ہزار 451 دستی رکشہ پرمٹس کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق پیشرفت بھی شامل تھی۔*

 

*سماعت کے دوران ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ عطا اللہ لانگو نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ سابقہ عدالتی احکامات کے باوجود کوئٹہ کے مرکزی اور فیڈر روٹس پر لوکل بسیں بدستور چل رہی ہیں، جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔*

 

انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ، پشین اور خضدار کے وکلاء کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کے تحت 2 ڈیزل بسیں، 2 گلابی وینز، 2 الیکٹرک شٹل کارٹس اور 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز مختص کی گئی ہیں، تاہم منصوبے پر تاحال خاطر خواہ عملی پیشرفت نہیں ہوسکی۔

 

عدالت کو بتایا گیا کہ خواتین وکلاء کے لیے مختص 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز بمعہ ہیلمٹس موصول ہوچکی ہیں، تاہم وکلاء کے لیے مختص دیگر ٹرانسپورٹ سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے عملی اقدامات مکمل نہیں کیے گئے۔

 

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ سریاب روڈ پر پرانے اکٹرائی گودام کے مقام پر لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص اراضی تاحال کمشنر/چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور سیکریٹری آر ٹی اے کو منتقل نہیں کی گئی، جس کے باعث منصوبے پر عملی پیشرفت نہیں ہوسکی۔

 

ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو شکیل احمد نے عدالت کو بتایا کہ کوئٹہ شہر میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی کا منصوبہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا تھا، جس کے لیے ابتدائی طور پر ایک ارب 23 کروڑ 53 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔ عدالت کے مشاہدات کے بعد منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو تفویض کیا گیا اور نظرثانی کے بعد اس کی لاگت 59 کروڑ 57 لاکھ 20 ہزار روپے کردی گئی، جو حتمی فیصلے کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں زیر غور ہے۔

 

درخواست گزار نے عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہوکر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ واضح عدالتی ہدایات کے باوجود کوئٹہ شہر اور نواحی علاقوں میں ٹریفک کی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی، جبکہ متعلقہ سرکاری محکمے عملی اقدامات کے بجائے محض رپورٹس پیش کررہے ہیں۔

 

عدالت نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ سیکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ کے دستخطوں سے آئندہ سماعت پر جامع رپورٹس پیش کی جائیں۔ عدالت نے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص اراضی کی منتقلی، موٹر رکشوں کے متبادل الیکٹرک وہیکلز کی فراہمی اور منصوبے کی موجودہ حیثیت سمیت وکلاء کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم کی منظوری اور عملی پیشرفت سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔

 

عدالت نے سیکریٹری آر ٹی اے کو کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں پرانی اور ناکارہ بسوں کے چلائے جانے سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

 

عدالت نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے متعلقہ افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 8 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی۔

 

عدالتی حکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ متعلقہ حکام تک پہنچا کر عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے۔