My WordPress Blog

دانتوں کی صفائی کے طریقے گزشتہ کئی برسوں کے دورا

دنیا بھر میں دانتوں کی صفائی کے طریقے گزشتہ کئی برسوں کے دوران نمایاں طور پر تبدیل ہوئے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان میں روایتی طور پر لوگ دانت صاف کرنے کے لیے درختوں کی ٹہنیوں یعنی ‘داتن‘ کا استعمال کرتے تھے، جس کے بعد ٹوتھ برش کا رواج عام ہوا۔

طرزِ زندگی میں تبدیلی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اب مارکیٹ میں الیکٹرک ٹوتھ برش کی بھرمار ہے۔ مختلف کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ برش بغیر کسی خاص محنت کے دانتوں کو زیادہ اچھی طرح صاف کرتے ہیں۔

تاہم عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اندازاً 3.7 ارب افراد منہ اور دانتوں کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: کیا ہم واقعی اپنے دانت درست طریقے سے صاف کر رہے ہیں؟

مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹل سائنسز نئی دہلی کے شعبۂ پبلک ہیلتھ ڈینٹسٹری کے سربراہ ڈاکٹر وکرانت موہنتی نے کہا کہ بحث صرف اس بات تک محدود نہیں ہونی چاہیے کہ کون سا ٹوتھ برش بہتر یا زیادہ مؤثر ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ لوگ منہ اور دانتوں کی صفائی کے حوالے سے کتنے باشعور ہیں اور کیا انہیں بنیادی نوعیت کی ضروری سہولیات اور وسائل آسانی سے دستیاب ہیں۔

ڈاکٹر موہنتی نے کہا کہ الیکٹرک ٹوتھ برش کے بارے میں یہ شواہد موجود ہیں کہ وہ دانتوں پر جمی تہہ دور کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق 56 سٹڈیزکے جائزے سے معلوم ہوا کہ الیکٹرک ٹوتھ برش نے دستی ٹوتھ برش کے مقابلے میں پلاک اور مسوڑھوں کی سوزش کو زیادہ کم کیا، اگرچہ اس فرق کی طبی اہمیت کے بارے میں حتمی رائے واضح نہیں تھی۔

مکمل تفصیل پہلے کمنٹ میں