عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر نواب ارباب عمر فاروق کاسی کا بلوچستان کے امن و امان کی صورتحال پر اپنے بیان میں کہنا
عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر نواب ارباب عمر فاروق کاسی کا بلوچستان کے امن و امان کی صورتحال پر اپنے بیان میں کہنا تھا کہ موجودہ حالات دیکھ کر دل انتہائی افسردہ اور پریشان ہوتا ہے۔ آخر اس خطے کو کن حالات تک پہنچا دیا گیا ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ ریاستی پالیسیوں اور عوام کے نام پر بنائے گئے نمائندوں کو آج سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
ہر روز قتل و غارتگری کی خبریں، بے یقینی، خوف اور بدامنی نے عام شہری کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ آزادانہ اور پُرسکون سفر کرنے سے بھی خوف محسوس کرتے ہیں۔ آخر ہم کب تک خاموش رہیں گے؟ کب تک صرف بیانات، دعووں اور تسلیوں پر گزارا کریں گے؟ نواب ارباب عمر فاروق کاسی
ہم بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے دشمن ممالک کو شکست دی، اپنی طاقت اور کامیابیوں کے قصے سناتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اپنے ہی ملک کے ایک اہم صوبے میں امن قائم کرنے میں ہم کب کامیاب ہوں گے؟ جب ایک بزرگ یہ کہنے پر مجبور ہو کہ حالات ایسے ہیں کہ یہ تو "ایک ایس ایچ او کی مار” ہے، تو ہمیں لمحۂ فکریہ کے طور پر اس بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ نواب ارباب عمر فاروق کاسی
انکا مزید کہنا تھا کہ خدارا، ابھی بھی وقت ہے۔ بلوچستان کے مسئلے کو صرف طاقت، خاموشی اور وقتی بیانات سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو تحفظ، انصاف، عزت اور امن چاہیے۔ سنجیدہ مذاکرات، مؤثر حکمت عملی، حقیقی نمائندگی اور عوامی مسائل کا عملی حل ہی حالات کو بہتر بنا سکتا ہے۔
خاموشی مسائل کا حل نہیں ہوتی۔ آج بولنے، سوچنے اور درست فیصلے کرنے کا وقت ہے، کیونکہ اگر آج بھی تاخیر کی گئی تو آنے والی نسلیں ہم سے ضرور سوال کریں گی کہ جب بلوچستان جل رہا تھا تو ہم کہاں کھڑے تھے؟
#Balochistan #Peace #Justice #امن_بلوچستان #بلوچستان