دشت میں معصوم سیاح جوڑے کو نشانہ بنانا روایات کی کھلی خلاف ورزی ہے ، میر فرید رئیسانی
دہشتگرد تنظیمیں اب سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈ کر بلوچستان آنے والے مہمانوں کو ٹارگٹ کرکے دہشت قائم رکھنا چاہتی ہیں
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء اور ممتاز قبائلی شخصیت میر فرید خان رئیسانی نے اپنے ایک بیان میں گزشتہ دنوں دشت کے علاقے میں کراچی سے آنے والے جوڑے کیساتھ پیش آنے والے دردناک اور افسوسناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قبائلی روایات کے خلاف قرار دیا ۔
میر فرید رئیسانی نے واقعہ کو ناقابل برداشت اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ہماری روایات کو مسخ کرنے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں سازش کے تحت بدامنی پھیلانے کی مذموم منصوبے چلائے جارہے ہیں جہاں دہشتگرد تنظیمیں معصوم عوام کا خون بہانے کے بعد اب بلوچستان آنے والے مہمانوں کو بھی نہیں بخش رہے جو کھلی دہشتگردی کی انتہاء اور سفاکانہ عمل ہے جس کو کسی صورت بررداشت نہیں کیاجاسکتا ۔
میر فرید رئیسانی نے کہا کہ ان دہشتگرد تنظیموں کا مقصد عوام میں خوف ہراس پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے اور اپنے آقائوں کو خوش کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے ۔ یہ دہشتگرد تنظیمیں چاہتی ہیں کہ بلوچستان میں کوئی سیاح نہ آئے اور نہ ہی کاروباری سرگرمیاں ہوں لیکن ہماری سیکورٹی فورسز ہمہ وقت ان دہشتگرد فتنہ الہندوستان کے ایسے مذموم کوششوں کو ناکام بنارہے ہیں ۔
میر فرید رئیسانی نے کہاکہ کراچی کے اس معصوم جوڑے کو ان کے دو معصوم بچیوں کے سامنے انتہائی بیددری سے نشانہ بنا کر عرش عظیم تک کو ہلا دیا ہے ۔ ہماری قومی روایات ایسے واقعات کی قطعی اجازت نہیں دیتے ۔ اور نہ ہی ہم ایسے واقعات کو مزید برداشت کرینگے ۔
یہ دہشتگرد تنظیمیں اب اپنے منطقی انجام کو پہنچنے کے قریب ہیں تب ہی سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈ کر اپنی ساکھ بحال رکھنے اور دہشت قائم کرنے کی ایک ناکام کوشش کررہے ہیں جو کبھی کامیاب نہیں ہوگی