- یہ سوچنا ہی واقعی انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے کہ آپ کے اوپر آسمان میں سستی سے تیرتا ہوا روئی کی طرح نرم اور بے ضرر سا نظر آنے والا سفید کلس بادل (Cumulus cloud) دراصل 500 ٹن کا حیران کن وزن رکھتا ہے۔ اس بھاری رقم یا مقدار کو آسان لفظوں میں سمجھنے کے لیے، یہ وزن آسمان میں بڑی آسانی سے اڑتے ہوئے 100 مکمل جوان ہاتھیوں کے وزن کے برابر بنتا ہے۔ آپ شاید یہ سوچ کر حیران ہوں کہ اتنا زیادہ وزن نیچے گرے بغیر کششِ ثقل (Gravity) کو کیسے مات دیتا ہے، لیکن اس کا راز اس بات میں چھپا ہے کہ یہ دیو ہیکل کمیت (Mass) فضا کے ایک بہت ہی وسیع اور پھیلے ہوئے رقبے (Volume) پر بکھری ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ بادل اپنے حقیقی جسمانی وزن کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہلکا دکھائی دیتا ہے۔
اس ماحولیاتی عجوبے کے پیچھے چھپی فزکس بھی اتنی ہی دلچسپ ہے، جو کثافت (Density) کے ایک نازک توازن پر انحصار کرتی ہے۔ اگرچہ یہ بادل اربوں باریک پانی کے قطروں اور برف کے کرسٹلز سے مل کر بنتا ہے، لیکن وہ ہوا میں اس قدر باریکی سے پھیلے ہوتے ہیں کہ بادل کی مجموعی کثافت اپنے آس پاس کی خشک ہوا کے مقابلے میں کم رہتی ہے۔ چونکہ بادل کے اندر موجود نمی سے بھرپور ہوا باہر کی ہوا کے مقابلے میں کم کثیف (Less dense) ہوتی ہے، اس لیے یہ بادل بالکل ایک گرم ہوا کے غبارے (Hot air balloon) کی طرح کام کرتا ہے، جو اسے فضا میں تیرتے رہنے اور آسمان میں اپنا سفر اس طرح جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے جیسے یہ تقریباً بے وزن ہو۔