کوئٹہ بلوچستان کے مرکزی ٹراما سینٹر پر تعمیر اور طبی آلات کی مد میں اربوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود علاج کی بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی نے ہسپتال کی کارکردگی اور انتظامی امور پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹراما سینٹر کی تعمیر اور آلات پر تقریباً 10 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں جبکہ ادارے کے لیے 1150 سے زائد ملازمین کی آسامیاں بھی منظور شدہ ہیں۔ تاہم حالیہ واقعے میں ایک جج کو معمولی نوعیت کے زخم کے علاج کے لیے بھی سی ایم ایچ منتقل کیے جانے کے بعد ٹراما سینٹر کی طبی سہولتوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
واقعے کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ اگر اربوں روپے کی لاگت سے قائم کیے گئے صوبے کے اہم ترین ٹراما سینٹر میں معمولی نوعیت کے زخم کا مناسب علاج ممکن نہیں تو اس منصوبے پر خرچ ہونے والی خطیر رقم کا عوام کو کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔