بلوچستان میں اکثر نوجوان تعلیمی اداروں کا رخ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ کل کو اچھی سرکاری نوکری مل جائے گی۔ وہ تعلیم حاصل نہیں کرتے تاکہ ان میں شعور پیدا ہو، پڑھنا لکھنا آئے، یا محفل میں گفتگو کے آداب سیکھیں۔ اسی نوکری کے پیچھے وہ زندگی کے تیس قیمتی سال گزار دیتے ہیں۔ جب سرکاری ملازمت نہیں ملتی تو مایوس ہو کر پرائیویٹ نوکری اپنا لیتے ہیں۔
نوجوانوں کو میرا مشورہ ہے کہ طالب علمی کے دور میں ہی ایک چھوٹا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کر لیں۔ اس کے لیے لاکھوں روپے لگانے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ کسی چوک پر صرف ایک چپس کا ٹھیلا بھی لگا دیں اور خود نہ بیٹھ سکیں تو کسی اور کو بٹھا دیں، تو اس ایک چپس کے ٹھیلے سے آپ سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے زیادہ کما سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اپنے ہنر اور سکلز پر کام کریں اور ڈیجیٹل دنیا سے جڑ جائیں۔ لیکن یہ سمجھ لیں کہ یہ کام اتنا آسان نہیں کہ معمولی ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھ لی اور لاکھوں کمانے لگے۔ اس کے لیے بھی مسلسل محنت درکار ہے۔ سستی چھوڑیں اور محنت کریں۔
کل ہی کوئٹہ کے ایک لڑکے کا کیس سامنے آیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ وہ عائشہ اچکزئی کے نام سے جعلی اکاؤنٹ چلا رہا تھا اور لوگوں کے گھروں کی تصویریں لگا کر “My New House” لکھ رہا تھا۔ کاش اس نے یہی محنت کسی حقیقی کام میں کی ہوتی تو آج اسے زنانہ اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
اب آپ کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو چھوٹا کاروبار شروع کریں، یا کوئی حقیقی ہنر سیکھیں اور محنت کریں۔ ورنہ اسی نوجوان کی طرح جعلی اکاؤنٹ بنا کر وقت ضائع کرنا بھی ایک راستہ ہے، لیکن وہ راستہ آپ کو کہیں نہیں لے جائے گا۔