کینیڈا کی البرٹا ریاست میں واقع ابراہام جھیل سردیوں کے موسم میں ایک سحر انگیز اور جادوئی منظر پیش کرتی ہے، جو جتنا خوبصورت ہے، اتنا ہی خطرناک بھی ہے۔ اس جھیل کے جمے ہوئے نیلے پانی کے نیچے سفید دائرے، ستون یا اڑتی طشتریوں جیسے تیرتے ہوئے بلبلے نظر آتے ہیں، جو دراصل میتھین گیس کے ہوتے ہیں۔
جب جھیل کی تہہ میں موجود پودے اور جڑی بوٹیاں گلتی سڑتی ہیں، تو وہ میتھین گیس خارج کرتی ہیں۔ یہ گیس بلبلوں کی شکل میں اوپر آنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن سردیوں میں جھیل کا پانی اوپر سے تیزی سے جمنے کی وجہ سے یہ بلبلے سطح تک پہنچنے سے پہلے ہی مختلف تہوں میں برف کے اندر قید ہو جاتے ہیں۔
دیکھنے میں یہ نظارہ کسی آرٹ کا نمونہ لگتا ہے، لیکن یہ گیس انتہائی آتش گیر ہوتی ہے۔ اگر سردیوں کے بعد برف پگھلتے وقت یہاں کوئی ماچس یا آگ جلائے، تو یہ گیس فوری طور پر زوردار دھماکے کے ساتھ آگ پکڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جھیل دنیا بھر کے فوٹوگرافرز اور سائنسدانوں کے لیے ایک سحر انگیز عجوبہ بنی ہوئی ہے۔