My WordPress Blog

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ — بلوچستان کے متوسط طبقے سے اُبھرنے والی ایک غیر معمولی قیادت

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ — بلوچستان کے متوسط طبقے سے اُبھرنے والی ایک غیر معمولی قیادت

 

تحریر سنگت قادر بلوچ ۔

 

بلوچستان کی سیاسی تاریخ قربانیوں، جدوجہد، مزاحمت اور قومی شعور سے عبارت ہے۔ اس دھرتی نے ہر دور میں ایسے عظیم رہنما پیدا کیے جنہوں نے نہ صرف بلوچ قوم بلکہ پورے پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ میر غوث بخش بزنجو، نواب خیر بخش مری، سردار عطاء اللہ مینگل اور شہید نواب اکبر خان بگٹی گل خان نصیر شہید فدا احمد بلوچ شہید چیرمین غلام محمد ڈاکٹر عبد الحئی بلوچ جیسے قد آور رہنما بلوچ سیاست کے وہ روشن ستارے ہیں جنہوں نے اپنے نظریات، سیاسی بصیرت اور قومی حقوق کی جدوجہد کے ذریعے تاریخ میں اپنا مقام بنایا۔ ان تمام رہنماؤں کا تعلق طاقتور قبائلی یا بااثر سیاسی خاندانوں سے تھا، مگر انہی حالات میں ایک ایسا رہنما بھی سامنے آیا جس نے ثابت کیا کہ قیادت صرف سرداری، نوابی یا خاندانی وراثت کا نام نہیں بلکہ عوامی خدمت، نظریاتی وابستگی، مسلسل جدوجہد اور خلوص سے بھی ایک انسان تاریخ میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ وہ شخصیت ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ہیں۔

 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بلوچستان کے اُن چند رہنماؤں میں شامل ہیں جو ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہوئے بلوچ سیاست میں اپنی محنت، کردار، دیانت اور سیاسی بصیرت کی بنیاد پر ابھرے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز ایک عام کارکن کے طور پر کیا۔ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد میں شامل ہوئے۔ بی ایس او وہ تنظیم رہی ہے جس نے بلوچستان میں سیاسی شعور، قومی سوچ اور مزاحمتی فکر کو نوجوان نسل تک منتقل کیا۔ ڈاکٹر مالک بلوچ بھی اسی نظریاتی سیاست کے ماحول میں پروان چڑھے۔ بعدازاں وہ بی این وائی، بی این ایم اور نیشنل پارٹی جیسے سیاسی پلیٹ فارمز کے بانی رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ ان کی سیاست ہمیشہ عوامی مسائل، تعلیم، قومی حقوق، جمہوریت اور اعتدال پسندی کے گرد گھومتی رہی۔

 

بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں جہاں دہائیوں تک تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کو نظر انداز کیا جاتا رہا، وہاں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ہمیشہ تعلیم کو سب سے اہم ہتھیار قرار دیا۔ ان کا یقین تھا کہ اگر بلوچ نوجوان تعلیم یافتہ ہوں گے تو وہ نہ صرف اپنے حقوق کی بہتر انداز میں جدوجہد کرسکیں گے بلکہ دنیا کے ساتھ مقابلہ بھی کرسکیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ بلوچستان کے وزیرِ تعلیم بنے تو انہوں نے صوبے میں تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے۔

 

ان کے دور میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہزاروں نئے اسکول قائم کیے گئے۔ دور دراز دیہی علاقوں، پہاڑی خطوں اور پسماندہ بستیوں تک تعلیمی اداروں کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں اساتذہ بھرتی کیے گئے تاکہ صوبے کے بچوں کو تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ ڈاکٹر مالک بلوچ کی کوشش تھی کہ بلوچستان کا ہر بچہ، خواہ وہ کسی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہو یا کسی دور افتادہ علاقے میں رہتا ہو، تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے۔ ان کا یہ خواب تھا کہ بلوچستان کے نوجوان ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، پروفیسر، سائنسدان اور قابل منتظم بن کر اپنے صوبے اور قوم کی تقدیر بدلیں۔

 

بطور سینیٹر بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔ اٹھارویں آئینی ترمیم میں ان کا کردار نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ ترمیم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تھی، جس کے ذریعے صوبوں کو زیادہ خودمختاری دی گئی اور وفاقی اختیارات کو محدود کیا گیا۔ بلوچستان جیسے وسائل سے مالا مال مگر محرومیوں کے شکار صوبے کے لیے یہ ترمیم انتہائی اہم تھی۔ اسی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کی بدولت بلوچستان کو اپنے وسائل اور مالی حقوق میں نسبتاً بہتر حصہ ملا۔ ڈاکٹر مالک بلوچ اُن رہنماؤں میں شامل تھے جو صرف جلسوں اور نعروں تک محدود نہیں رہے بلکہ پارلیمنٹ کے اندر رہ کر عملی جدوجہد کرتے رہے۔

 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ایسے وقت میں بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ سنبھالی جب بلوچستان شدید بدامنی، خونریزی، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشوں کے المناک واقعات کی لپیٹ میں تھا۔ بلوچستان کے عوام عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی کی زندگی گزار رہے تھے۔ مختلف علاقوں میں مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ چکی تھیں اور صوبے میں ریاستی رٹ کمزور دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے نازک حالات میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا، نرم مزاج اور سیاسی سوچ رکھنے والا شخص وزیرِ اعلیٰ بنا۔ بہت سے لوگوں کو یہ خدشہ تھا کہ شاید وہ اتنے پیچیدہ حالات کو سنبھال نہ سکیں، مگر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنی سیاسی بصیرت، بردباری اور عوامی اندازِ حکمرانی سے ثابت کیا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔

 

ان کے دورِ حکومت میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال نسبتاً بہتر ہوئی۔ اغوا برائے تاوان اور جرائم کے واقعات میں کمی آئی۔ عوام نے محسوس کیا کہ حکومت ان کے مسائل سن رہی ہے۔ بلوچستان کے کئی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہوا۔ اپنے مختصر دورِ حکومت میں انہوں نے یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجز، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی۔ سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا گیا تاکہ بے روزگاری کی وجہ سے پیدا ہونے والی مایوسی کم ہوسکے۔

 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی سادگی اور دیانت داری ہے۔ پاکستان کی سیاست میں جہاں کرپشن، شاہانہ طرزِ زندگی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات عام رہی ہیں، وہاں ڈاکٹر مالک بلوچ نے ایک مختلف مثال قائم کی۔ بطور وزیرِ اعلیٰ انہوں نے اپنے سیکرٹ فنڈ کو ختم کردیا، جو ایک غیر معمولی اقدام سمجھا گیا۔ انہوں نے سرکاری وسائل کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنے کی روایت قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین بھی ان کی دیانت داری اور شفافیت کا اعتراف کرتے ہیں۔

 

بلوچستان کی سیاست میں کئی دہائیوں تک سرداری اور نوابی نظام غالب رہا۔ اقتدار اکثر انہی خاندانوں کے گرد گھومتا رہا جن کے پاس قبائلی اثرورسوخ، دولت اور طاقت موجود تھی۔ مگر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہوئے اس تصور کو چیلنج کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر کوئی رہنما مخلص ہو، عوام کے درد کو سمجھتا ہو اور حقیقی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو تو وہ بغیر کسی قبائلی طاقت یا سرمایہ کے بھی عوام کے دلوں میں جگہ بنا سکتا ہے۔

 

تربت شہر، جو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا آبائی علاقہ ہے، آج بلوچستان کے نسبتاً ترقی یافتہ اور منظم شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اگر اس کا موازنہ دیگر سابق وزرائے اعلیٰ یا بااثر سرداروں کے علاقوں سے کیا جائے تو واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔ تربت میں تعلیم، سڑکوں، شہری سہولیات اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے نمایاں تبدیلیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اقتدار کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی خدمت کے لیے استعمال کیا۔

 

آج پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتیں، دانشور، صحافی اور سنجیدہ حلقے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سیاسی بصیرت، تحمل مزاجی اور دور اندیشی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ انتہا پسندی کے بجائے سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور عوامی شمولیت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بلوچستان کے اُن چند رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں قومی سطح پر بھی احترام حاصل ہے۔

 

موجودہ حالات میں بلوچستان ایک بار پھر بے چینی، بداعتمادی اور بدامنی کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ نوجوان مایوسی کا شکار ہیں، سیاسی ماحول کشیدہ ہے اور عوام مختلف مسائل میں گھِرے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں بلوچستان کو ایک بار پھر ایسے رہنما کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو نہ صرف صوبے کے زمینی حقائق کو سمجھتا ہو بلکہ عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کا حل بھی تلاش کرسکے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سیاست کا سب سے بڑا وصف یہی ہے کہ وہ عوام کے قریب رہتے ہیں، ان کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں اور مسائل کا حل طاقت کے بجائے سیاسی حکمت، مکالمے اور تعلیم میں تلاش کرتے ہیں۔

 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک نظریاتی ورکر، ایک مدبر رہنما اور ایک عوام دوست شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی جدوجہد سے یہ ثابت کیا کہ بلوچستان کی ترقی صرف نعروں، قبائلی برتری یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں بلکہ تعلیم، شعور، دیانت دار قیادت، سیاسی بصیرت اور عوامی خدمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بلوچستان کے سنجیدہ سیاسی حلقے انہیں امید، اعتدال اور مثبت سیاست کی علامت سمجھتے ہیں۔