برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے قرنیے کی پیوند کاری پر پابندی کے باعث افغانستان میں ہر سال سینکڑوں افراد بینائی بچانے والے آپریشنز
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے قرنیے کی پیوند کاری پر پابندی کے باعث افغانستان میں ہر سال سینکڑوں افراد بینائی بچانے والے آپریشنز سے محروم ہو جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ قرنیے کی پیوند کاری اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز نہیں، جس کے بعد سرجنوں کو یہ آپریشن روکنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ 2021میں اقتدار سنبھالنے کے بعد صحت کی سہولتوں تک رسائی محدود کرنے سے متعلق طالبان کے متعدد احکامات میں یہ تازہ ترین اقدام ہے۔یہ پابندی ایسے وقت میں عائد کی گئی ہے جب چند ماہ قبل ایک طبی فلاحی ادارے نے کابل اور مشرقی شہر جلال آباد میں مقامی ڈاکٹروں کو قرنیے کی پیوند کاری کی تربیت فراہم کرنے میں مدد دی تھی۔ڈاکٹروں کے مطابق افغانستان میں دھماکوں اور حادثات میں زخمی ہونے والے مریضوں کی بینائی بحال کرنے کے لیے قرنیے کی پیوند کاری کی شدید ضرورت ہے۔ کابل کے نور آئی اسپتال کے ڈاکٹر نور زمان ہاشم نے بتایا کہ پابندی سے قبل ان کے عملے نے حالیہ مہینوں میں قرنیے کی پیوند کاری کے 90 آپریشن کیے تھے، تاہم طالبان کے حکم کے بعد یہ پروگرام روک دیا گیا۔