My WordPress Blog

گوادر ،سرکاری ڈیسالینیشن پلانٹ میں پراسرار آگ

گوادر (این این آئی)گوادر ،سرکاری ڈیسالینیشن پلانٹ میں پراسرار آگ،اربوں کا راز جل گیا،کرپشن کے ثبوت مٹانے کے لیے آگ لگائی گئی،ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا بڑا الزام،یہ محض آگ نہیں، قومی خزانے پر ڈاکے کے ثبوت جلائے گئے ہیں ,گوادر کے علاقے کارواٹ میں قائم سرکاری ڈیسالینیشن پلانٹ میں رات گئے لگنے والی آگ نے ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا ہے، جہاں حق دو تحریک کے رہنما ہدایت الرحمان بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ کرپشن کے شواہد مٹانے کی منظم سازش ہے،ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن کا متاثرہ پلانٹ کے دورہ کے دوران میڈیا سے گفتگو،تفصیلات کے مطابق حق دو تحریک کے بانی اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے گوادر کے علاقے کارواٹ میں قائم سرکاری ڈیسالینیشن پلانٹ کا دورہ کرتے ہوئے حالیہ آتشزدگی اور منصوبے کی مجموعی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ شب اس پلانٹ میں پراسرار طور پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے الزام عائد کیا کہ یہ آگ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ کرپشن کے شواہد مٹانے کے لیے دانستہ طور پر لگائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کئی برسوں سے غیر فعال پڑا ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں ہوئیں، جن میں بااثر مافیا ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کی تحقیقات اور حکومتی کمیٹیوں کے قیام کے باوجود تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔انہوں نے مزید کہا کہ اربوں روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا یہ منصوبہ عوام کو صاف پانی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ بقول ان کے، پلانٹ کی یومیہ پیداواری صلاحیت 20 لاکھ گیلن مقرر کی گئی تھی، تاہم عملی طور پر یہ معمولی مقدار میں بھی پانی فراہم نہیں کر سکا۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے ٹیم کے ہمراہ پلانٹ کا دورہ کیا، جس کے بعد خصوصی آڈٹ کرانے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ “معاشی دہشت گردی” کے زمرے میں آتا ہے، جس کے مرتکب افراد کو سخت سزا ملنی چاہیے۔