My WordPress Blog

چین میں کام کرنے والے ایک پاکستانی زرعی محقق نے کہاہے کہ سائنسی تعاون

چین میں کام کرنے والے ایک پاکستانی زرعی محقق نے کہاہے کہ سائنسی تعاون کو مزید فروغ دے کر پاکستان جدید چینی زرعی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کر سکتا ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، مٹی کی صحت میں بہتری اور پائیدار زراعت کے فروغ میں مدد ملے گی۔

 

گفتگو کرتے ہوئے چائنیز اکیڈمی آف ٹراپیکل ایگریکلچرل سائنسز (CATAS) کے سانیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں پاکستانی پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق ڈاکٹر حافظ محمد رضوان نے سانیا، صوبہ ہائی نان میں یازہو ٹراپیکل ایگریکلچرل سائنس انٹرنیشنل ٹیلنٹ اسٹیشن کے افتتاح کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ تقریب میں بین الاقوامی محققین کی نمائندگی کر رہے تھے۔

 

انہوں نے کہاکہ ایک پاکستانی سائنسدان کی حیثیت سے میں خود کو دونوں ممالک کے درمیان ایک پل سمجھتا ہوں۔ میرا مقصد چینی زرعی مہارت کو پاکستان کی تحقیقی ترجیحات اور زرعی شعبے کو درپیش مسائل ، بالخصوص مفید خرد حیاتیات، پھل دار فصلوں میں بہتری، پودوں میں ماحولیاتی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت اور پائیدار زراعت کے شعبوں سے جوڑنا ہے۔

 

ڈاکٹر رضوان 2015 سے چین میں تحقیق کر رہے ہیں اور ان کی تحقیق کا بنیادی شعبہ مفید خرد حیاتیات اور پودوں و جرثوموں کے باہمی تعاملات ہیں، جن کی مدد سے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں زیادہ لچکدار اور پائیدار زرعی نظام تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔

 

انہوں نے نشاندہی کی کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) اور جنوب-جنوب تعاون (SSC) کے فریم ورک کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون میں توسیع ہوئی ہے۔

 

پاکستانی اور چینی جامعات کے درمیان پلانٹ ٹشو کلچر ٹیکنالوجی، پاکستانی طلبہ کے لیے ٹیکنالوجی منتقلی سے متعلق آن لائن تربیت اور پاکستان میں مشروم کی کاشت کے پروگراموں میں چینی ماہرین کی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔

 

ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ پاکستان کو چین کی حیاتیاتی کنٹرول اور زرعی مائیکروبیل ٹیکنالوجیز کو ترجیح دینی چاہیے،بالخصوص مائیکروبیل بائیو فرٹیلائزرز، حیاتیاتی کیڑے مار ادویات اور جدید مائیکروبیل فرمنٹیشن نظام کو، تاکہ کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ مٹی کی زرخیزی اور فصلوں کی مزاحمت میں اضافہ کیا جا سکے۔

 

تاہم، انہوں نے زور دیا کہ ان ٹیکنالوجیز کو براہِ راست درآمد نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ مقصد چینی ٹیکنالوجیز کی براہِ راست نقل کرنا نہیں بلکہ انہیں پاکستان کی فصلوں، مٹی، آب و ہوا، زرعی نظام اور معاشی حالات کے مطابق جانچنا، ڈھالنا اور مؤثر ثابت کرنا ہے۔

 

انہوں نے تجویز دی کہ چینی اور پاکستانی محققین مشترکہ طور پر موزوں مائیکروبیل اقسام کی نشاندہی کریں، حیاتیاتی تحفظ کے جائزے اور مختلف علاقوں میں فیلڈ ٹرائلز کریں، فرمنٹیشن اور مصنوعات کی تیاری کی ٹیکنالوجیز منتقل کریں اور بالآخر پاکستان میں حیاتیاتی زرعی مصنوعات کی مقامی پیداوار کے مراکز قائم کیے جائیں۔

 

ڈاکٹر رضوان کے مطابق وہ پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق مکمل کرنے کے بعد وہ مشترکہ پاک چین تحقیقی پلیٹ فارمز کے قیام، پاکستانی حالات میں مائیکروبیل بائیو فرٹیلائزرز اور حیاتیاتی فصل تحفظ ٹیکنالوجیز کی افادیت جانچنے، محققین کے تبادلے اور تکنیکی تربیتی پروگراموں کے فروغ میں کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔

 

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا تعاون پاکستان کو اہم فصلوں کے لیے مقامی حالات سے ہم آہنگ حیاتیاتی حل تیار کرنے، درآمدی زرعی مداخل پر انحصار کم کرنے اور ملکی سائنسی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے قابل بنا سکتا ہے۔

 

ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ آئندہ تین سے پانچ برسوں کے دوران مؤثر پاک چین تعاون کے نتیجے میں پاکستانی کسان فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے، پائیدار زرعی مداخل اختیار کرنے، برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لانے، جدید زرعی طریقوں کو اپنانے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ساتھ ساتھ بہتر زرعی توسیعی خدمات کے ذریعے منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔