خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی امریکی بحریہ نے ایران کے قریب اپنے 2 طیارہ بردار بحری جہاز ’’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘‘ اور’’ یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش‘‘ تعینات کر دیئے۔
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، اگرچہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
اس کے بعد امریکہ نے ایران پر خطے میں 3 آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا اور ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جواباً ایران نے 2 روز قبل خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں، بحری قوت میں اس اضافے کا مقصد خطے کی سلامتی کو فروغ دینا اور استحکام برقرار رکھنا ہے۔
جب سینٹ کام سے پوچھا گیا کہ آیا یہ تعیناتی ایران کی معیشت کو ماضی میں نقصان پہنچانے والی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ہے؟ تو اس نے آپریشنل معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم دونوں طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے میزائلوں کی ممکنہ مار کی حدود میں دیکھے گئے، جس کے باعث ان کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
نیویارک پوسٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی کو مزید مضبوط کرنا اور ضرورت پڑنے پر تہران پر دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے، بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق دونوں بحری جہاز خلیجِ عمان میں داخل ہوئے۔یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں، عالمی سطح پر تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔