My WordPress Blog

سانحہ زیارت کے لواحقین کے تمام مطالبات بشمول جوڈیشل کمیشن کا قیام تسلیم کر لیے گئے

سانحہ زیارت کے لواحقین کے تمام مطالبات بشمول جوڈیشل کمیشن کا قیام تسلیم کر لیے گئے ہیں، سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی مطالبات بھی شہدا کے مطالبات کے ساتھ شامل کر دیے ہیں ، ضیاء اللہ لانگو

 

کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ سانحہ زیارت کے شہدا کے لواحقین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں، جن میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا بنیادی مطالبہ بھی شامل ہے۔

 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ لواحقین کا سب سے اہم مطالبہ واقعے کے اصل حقائق سامنے لانا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ شہادتیں کیسے ہوئیں اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس سلسلے میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو ممکن بنایا جا سکے۔

 

ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ احتجاج میں شامل بعض سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی مطالبات بھی شہدا کے مطالبات کے ساتھ شامل کر دیے ہیں، جو کہ بالکل مناسب نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ لاشوں اور شہدا کے حساس معاملے کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ شہدا کے خاندانوں اور صوبے دونوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

 

صوبائی وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے خلاف کاروائی جاری ہے اور سرانان کے علاقے سے بھی انہیں نکال دیا گیا ہے۔

 

انہوں نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خود بھی سانحہ زیارت پر شدید رنج و غم میں مبتلا ہے، کیونکہ شہید ہونے والے اہلکار ریاست اور حکومت کے ہی محافظ تھے۔ جس طرح شہدا کے لواحقین اس سانحے پر دل گرفتہ ہیں، اسی طرح حکومت بھی اس دکھ میں ان کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔