دو دن پہلے کی بات ہے، پرنس روڈ پر چار لڑکیاں سلیم بلوچ کے رکشے میں بیٹھیں اور بی ایم سی (BMC) کے سامنے جا کر اتریں۔ سواریاں اترنے کے بعد سلیم بلوچ کی نظر رکشے میں پڑے ایک موبائل فون پر پڑی جو ان میں سے ایک لڑکی جلدی میں بھول گئی تھی۔
سلیم بلوچ چاہتے تو خاموش رہتے، لیکن انہوں نے رزقِ حلال اور امانت داری کا راستہ چنا۔ انہوں نے نہ صرف فون کو سنبھال کر رکھا بلکہ خود انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی اور ہمیں میسج کیا کہ یہ کسی کی امانت میرے رکشے میں رہ گئی ہے آپ پوسٹ کریں کہ یہ امانت ان تک پہنچ جائے، ہمارے پوسٹ کرنے کے پانچ منٹ بعد ہی اس لڑکی نے میسج کیا اور فون خود جا کر اس کے حوالے کیا۔
سلیم بلوچ جیسے لوگ ہمارے معاشرے کے حقیقی ہیرو ہیں جو اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانیت اور شرافت آج بھی زندہ ہے۔ سلیم بلوچ کے اس جذبے اور ایمانداری کو ہم دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں! ❤️🙌🏻