کرایوں میں 5 گنا اضافہ اور کاؤنٹرز پر بلاجواز پابندیاں: بلوچستان میں ہوائی سفر شہریوں کے لیے عذاب بن گیا
بلوچستان میں موجودہ کشیدہ اور غیر معمولی حالات کے باعث عام شہریوں اور مسافروں کے لیے ہوائی سفر سہولت کے بجائے ایک شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا روپ دھار چکا ہے۔ صوبے کے زمینی راستوں اور شاہراہوں پر سیکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے عوام کے پاس ملک کے دیگر شہروں تک پہنچنے کے لیے واحد محفوظ ذریعہ ہوائی سفر ہی بچتا ہے، لیکن ایئرپورٹ انتظامیہ اور مختلف ایئرلائنز کی من مانیوں نے اس آپشن کو بھی شہریوں کے لیے وبالِ جان بنا دیا ہے۔
سفر کی شروعات ہی مسافروں کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر ہوتی ہے۔ حالات کی مجبوری کا بے دردی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی اور قومی ایئرلائنز نے ٹکٹوں کے کرائے یکدم پانچ گنا تک بڑھا دیے ہیں۔ جو سفر عام دنوں میں چند ہزار کا ہوتا تھا، اب اس کے لیے غریب اور متوسط طبقے کو اپنی جیب خالی کرنا پڑ رہی ہے۔ مریضوں، طالب علموں اور ہنگامی کام سے جانے والے شہریوں کو مجبوری میں یہ بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے، لیکن مصیبت کا یہ تو صرف پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔
ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی مسافروں کو انتظامی بد نظمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایئرپورٹ کے اندر داخل ہونے سے پہلے سیکیورٹی سرچ اور چیکنگ کے نام پر شدید رش لگ جاتا ہے۔ سست رفتار عملے اور غیر منظم انتظام کی وجہ سے ہر مسافر کو سخت گرمی، حبس یا سردی میں محض ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہونے کے لیے 35 سے 40 منٹ تک لمبی قطاروں میں خوار ہونا پڑتا ہے۔ بزرگوں، خواتین اور بچوں کے لیے یہ طویل انتظار شدید کوفت کا باعث بنتا ہے۔
حقیقی اذیت کا آغاز تب ہوتا ہے جب مسافر اس طویل انتظار کے بعد آخر کار ایئرپورٹ کاؤنٹر پر پہنچتے ہیں۔ وہاں موجود عملہ سائلین اور مسافروں کی مدد کرنے کے بجائے مختلف بہانوں سے انہیں تنگ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ صرف 7 کلو گرام ہینڈ کیری (Hand Carry) الاؤ ہے اور دیگر سامان نہیں لے جایا جا سکتا، تو کبھی اچانک یہ نیا قانون سنا دیا جاتا ہے کہ آج لگیج (Checked Baggage) کی بالکل اجازت ہی نہیں ہے۔ کاؤنٹر عملے کے اس متنازع اور غیر معقول رویے کی وجہ سے شہری اپنے ضروری سامان اور ہنگامی ضروریات کے اشیا ایئرپورٹ پر چھوڑنے یا شدید پریشانی میں کاؤنٹر پر بحث کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر، بلوچستان کے شہری اس وقت ایک طرف حالات کی کشیدگی اور دوسری طرف ایئرلائنز کی لوٹ مار اور ایئرپورٹ انتظامیہ کی عدم توجہی کے دوہرے عذاب میں پس رہے ہیں۔ شہریوں نے سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور کرایوں کو یکسر کم کرنے کے ساتھ ساتھ ایئرپورٹ پر مسافروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس نامناسب رویے کو ختم کرنے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔