ایک سال جمے رہے گردے
پھر زندہ ہو گئے!
ٹرانسپلانٹ میں انقلاب
دنیا بھر میں لاکھوں مریض گردے کے ٹرانسپلانٹ کے انتظار میں ہیں، اور ہر روز کئی مریض مناسب عضو نہ ملنے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ نکالا ہوا عضو صرف چند گھنٹے زندہ رہتا ہے، اس لیے اسے فوراً مریض تک پہنچانا پڑتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو اس پوری صورتحال کو بدل سکتا ہے۔ انہوں نے گردوں کو ایک سال سے زیادہ عرصے تک جما کر رکھا اور پھر انہیں زندہ کر دکھایا۔
یہ تحقیق امریکہ کی مینیسوٹا یونیورسٹی میں ہوئی، جس کی قیادت ٹرانسپلانٹ سرجن ایرک فنگر نے کی۔ خبر ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے 15 اکتوبر 2026 کو شائع کی۔ سائنسدانوں نے سور کے گردے، جو انسانی گردوں کے برابر ہوتے ہیں، منفی 150 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کیا۔ اس درجہ حرارت پر گردے شیشے جیسی حالت میں چلے جاتے ہیں، جس میں برف کے کرسٹل نہیں بنتے اور خلیے محفوظ رہتے ہیں۔ ایک گردہ تو ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ اسی حالت میں فریزر میں رکھا گیا۔
پھر ان گردوں کو خاص طریقے سے گرم کیا گیا، مشینوں پر ان کا معائنہ کیا گیا، اور سوروں میں ٹرانسپلانٹ کر دیا گیا۔ نتیجہ دیکھ کر سائنسدان خود حیران رہ گئے۔ گردوں نے اپنا قدرتی رنگ واپس حاصل کر لیا اور پیشاب بنانا شروع کر دیا، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ کام کر رہے تھے۔ ڈاکٹر فنگر نے کہا کہ آخری ٹرانسپلانٹ کے بعد جب وہ کمرے سے نکلے تو ان کے منہ سے نکلا کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔ ہارورڈ کے ماہر کورکت اویگن نے کہا کہ اس سے اعضا کو غیر معینہ مدت تک محفوظ رکھنا ممکن ہو جائے گا۔
یہ تحقیق ابھی ابتدائی ہے اور سائنسی جائزے سے نہیں گزری، اور گردے مکمل طور پر کامل نہیں تھے۔ لیکن ماہرین اسے ایک سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ طریقہ انسانی اعضا پر کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں اعضا کے بینک بن سکیں گے، جہاں ہر مریض کے لیے مناسب عضو پہلے سے محفوظ ہوگا، اور انتظار کی فہرست میں موت کا سلسلہ رک سکے گا۔ یہ ٹرانسپلانٹ کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔