اُستا محمد۔ عوامی شکایات پر انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے جناح روڈ پر مرغی کی دکانوں کی چیکنگ زائد نرخوں پر فروخت
اُستا محمد۔ عوامی شکایات پر انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے جناح روڈ پر مرغی کی دکانوں کی چیکنگ زائد نرخوں پر فروخت کرنے والے متعدد دکانداروں کو جرمانے عائد کیے گئے اور مقررہ نرخوں پر عملدرآمد کی سخت ہدایت کی گئی واضح رہے کہ آج ڈپٹی کمشنر اُستا محمد محمد رمضان پلال کی ہدایت پر شہر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر اُستا محمد ماریہ شمعون نے جناح روڈ پر مرغی فروخت کرنے والی مختلف دکانوں کا معائنہ کیا اور مرغی کے نرخوں خرید و فروخت کے ریکارڈ اور صارفین سے وصول کی جانے والی قیمتوں کا جائزہ لیا
دورانِ چیکنگ انکشاف ہوا کہ بعض دکاندار 455 روپے فی کلو کے حساب سے خریدی گئی مرغی عوام کو 700 سے 720 روپے فی کلو کے نرخ پر فروخت کر رہے تھے جو مقررہ نرخوں اور قیمتوں کے ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے انتظامیہ نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے زائد قیمتیں وصول کرنے والے متعدد دکانداروں کے خلاف کارروائی کی اور انہیں جرمانے عائد کیے
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ناجائز منافع خوری سے گریز کریں سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخوں کی پابندی یقینی بنائیں اور خریداری کے عمل میں شفافیت برقرار رکھتے ہوئے صارفین سے مقررہ قیمت سے زیادہ رقم وصول نہ کریں انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر فراہمی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی
انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کے حقوق کے تحفظ مصنوعی مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے بازاروں اور تجارتی مراکز میں قیمتوں کی نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے دکانداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور مقررہ قیمتوں کے مطابق اشیاء فروخت کریں بصورتِ دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کوئی دکاندار مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرے تو اس کی نشاندہی متعلقہ انتظامی حکام کے سامنے کریں تاکہ بروقت کارروائی کرکے عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف فراہم کیا جا سکے