My WordPress Blog

ایک مریض میں جگر اور گردہ روبوٹ سے دہرا ٹرانسپلانٹ! امریکہ میں

ایک مریض میں جگر اور گردہ روبوٹ سے دہرا ٹرانسپلانٹ!

امریکہ میں ڈاکٹروں نے طب کی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی مریض میں روبوٹ کی مدد سے جگر اور گردے دونوں کی پیوند کاری کر کے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یہ کارنامہ واشنگٹن یونیورسٹی اور بارنز جیوش اسپتال کے سرجنوں ڈاکٹر عدیل خان اور ڈاکٹر جیسیکا لنڈیمن نے انجام دیا۔ مریض ڈیرل بوسورتھ کو ٹرانسپلانٹ کی فہرست میں شامل ہونے کے صرف 3 ہفتے بعد عطیہ دہندہ کے اعضاء مل گئے تھے۔

جگر کی پیوند کاری زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے اس لیے پہلے جگر لگایا گیا جس میں 8 گھنٹے سے زیادہ وقت لگا۔ ڈاکٹر خان روبوٹک کنسول سے آلات چلاتے رہے جبکہ ڈاکٹر لنڈیمن مریض کے پاس موجود رہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پورا آپریشن صرف 3 انچ کے ایک چھوٹے کٹ سے کیا گیا جبکہ عام طریقے میں پیٹ میں 16 سے 20 انچ لمبا چیرا لگانا پڑتا ہے اور پٹھے کاٹنے پڑتے ہیں۔

مریض کا کہنا ہے کہ اسے اپنی ٹیم پر مکمل بھروسہ تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق روبوٹک طریقے سے مریض کو کم تکلیف ہوتی ہے، خون کم بہتا ہے اور صحت یابی جلدی ہوتی ہے۔ روبوٹ کے آلات انسانی ہاتھ سے زیادہ باریک حرکت کرتے ہیں اور تھری ڈی کیمرہ اندر کا ہر حصہ واضح دکھاتا ہے۔ ڈاکٹر خان کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے۔ آنے والے برسوں میں روبوٹک سرجری اتنی عام ہو جائے گی کہ پیچیدہ دہرے ٹرانسپلانٹ بھی معمول کے آپریشن بن جائیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کامیابی مستقبل میں ایسے مریضوں کی زندگی بچائے گی جنہیں ایک ساتھ دو اعضاء کی ضرورت ہوتی ہے۔