اپنے کزن کے لئے لڑکی دیکھ رہے تھے، فائنلی لڑکی سمجھ آگئی، اور انہیں ہم سمجھ آگئے، لڑکے کے کام سے لیکر مصروفیات تک
اپنے کزن کے لئے لڑکی دیکھ رہے تھے، فائنلی لڑکی سمجھ آگئی، اور انہیں ہم سمجھ آگئے، لڑکے کے کام سے لیکر مصروفیات تک ہر چیز کے بارے میں انہیں آگاہ کردیا تھا، انہوں نے اپنے طور سے جانچ کروائی، مطمعین ہوکر بات فائنل ہوئی، جب نکاح کے لئے بیٹھے تو پہلی ڈیمانڈ سن کر ہی سب کی بولتی، بند، نکاح میں پانچ تولہ حق مہر رکھو، اسٹامپ پیپر پر چند شرائط بھی لکھ کر دو، پہلی شرائط، شادی کے بعد لڑکی کو الگ رکھو کرایہ پر، جبکہ لڑکا اکلوتا بیٹا ہے، باقی دو بہنیں، لیکن اس بات سے انہیں کوئی غرض نہیں، زیور کہیں سے بھی دو، بعد میں یا پہلے، اچھا جو یہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں، وہ خود کرائے کے گھر میں رہتے ہیں پانچ بیٹیوں کو لیکر، خود اور انکے بچے گارمنٹس میں کام کرتے ہیں، اور ڈیمانڈ چیک کریں ذرا، پھر کہتے ہیں، رشتے نہیں آتے, ایسا لگ رہا تھا، جیسے سودا کر رہے ہوں۔یہ بات ڈی ایچ اے لیڈیز نامی پیج نے شیئرکی ہے ۔