ملک امان کاسی
اصول، قربانی اور پشتون قومی شعور کی ایک روشن علامت
تحریر: عارف افغان (ملک عارف کاسی)
بلوچستان اور بالخصوص پشتون قومی سیاست کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف ایک سیاسی کارکن نہیں بلکہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ملک امان اللہ کاسی بھی انہی عظیم کرداروں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی قوم، وطن، نظریے اور اصولوں کے لیے وقف کر دی۔ وہ ان رہنماؤں میں سے تھے جو اقتدار، مفادات اور وقتی شہرت کے بجائے قومی شعور، سچائی اور اجتماعی بیداری پر یقین رکھتے تھے۔
میں بچپن سے ہی ملک امان کاسی کو جانتا تھا کیونکہ اکثر اپنے والد محترم ملک غلام علی کے ساتھ ان کی محفلوں میں بیٹھنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص وقار، سنجیدگی اور شفقت موجود تھی۔ وہ کم گو مگر گہری سوچ رکھنے والے انسان تھے۔ ان کی گفتگو میں دلیل، تاریخ، سیاسی شعور اور قومی درد نمایاں ہوتا تھا۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں اکثر مخلص، باکردار اور سچے لوگوں کو جان بوجھ کر پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے، جبکہ مفاد پرست، موقع پرست اور دوغلے کردار قیادت کے منصب پر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ملک امان اللہ کاسی جیسے اصول پسند اور بہادر رہنماؤں کو سیاسی اور سماجی منظرنامے سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی تاکہ ان کی سچی آواز عوام تک نہ پہنچ سکے۔ مگر تاریخ ہمیشہ سچائی کو زندہ رکھتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ملک امان کاسی کا نام عزت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
ملک امان کاسی ایک صابر، دیانتدار، پاکیزہ اور نظریاتی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار مشکلات، قید و بند، سیاسی دباؤ اور معاشی مسائل برداشت کیے لیکن کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ آج کے دور میں شاید ہی کوئی ایسا سیاستدان نظر آئے جس نے قوم اور نظریے کے لیے اتنی قربانیاں دی ہوں جتنی ملک امان کاسی نے دیں۔ ان کی جدوجہد، استقامت اور خلوص کو اللہ تعالیٰ نے ایسا مقام عطا کیا کہ ان کی وفات کے بعد ان کا نام اور فکر مزید نمایاں ہو گئی۔
کابل میں ان کی اچانک وفات پورے پشتون وطن کے لیے ایک بڑا سانحہ تھی۔ ان کی میت کو افغان حکومت کی خصوصی طیارے کے ذریعے کوئٹہ لایا گیا جبکہ افغان حکومت کے اعلیٰ حکام اور وفد نے بھی ان کے ساتھ اظہارِ عقیدت کیا۔ یہ عمل اس بات کی واضح علامت تھا کہ ملک امان کاسی صرف بلوچستان یا کوئٹہ تک محدود شخصیت نہیں تھے بلکہ انہیں پورے خطے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ چشمہ اچوزئی میں ان کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت نے یہ ثابت کیا کہ وہ عوام کے دلوں میں زندہ تھے اور آج بھی زندہ ہیں۔
ملک امان کاسی کی پیدائش 1946 یا 1947 میں کوئٹہ کے نواحی علاقے چشمہ اچوزئی میں ہوئی۔ کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ ان کے کندھوں پر آ گیا، لیکن انہوں نے مشکلات کے باوجود تعلیم، شعور اور قومی فکر سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔ نوجوانی میں وہ پشتون قومی سیاست سے متاثر ہوئے اور بعد میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی سمیت دیگر قوم پرست رہنماؤں کے قریبی ساتھی بن گئے۔
انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی بار گرفتاریاں برداشت کیں اور مختلف جیلوں میں قید رہے۔ بدنام زمانہ حیدرآباد سازش کیس میں بھی ان کا نام شامل تھا، جہاں خان عبد الولی خان، عطا اللہ مینگل اور دیگر قوم پرست رہنما بھی پابندِ سلاسل تھے۔ اس دور میں انہیں سخت ترین سیاسی انتقام کا سامنا کرنا پڑا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان پر سزائے موت کے خدشات منڈلا رہے تھے۔ مگر وہ نہ ڈرے، نہ جھکے اور نہ ہی اپنے نظریے سے پیچھے ہٹے۔
ملک امان کاسی مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے، لیکن ان کی وفاداری ہمیشہ کسی فرد یا اقتدار کے بجائے قوم اور اصولوں کے ساتھ رہی۔ وہ صرف اسی سیاسی سوچ اور جماعت کا ساتھ دیتے تھے جس میں عوامی خدمت، قومی بقا اور پشتون قومی وحدت کا تصور موجود ہو۔ جب سیاست نظریات کے بجائے مفادات، دولت اور اقتدار کی طرف مڑنے لگی تو ان کے اختلافات بھی واضح ہوتے گئے کیونکہ وہ اصولی سیاست کے علمبردار تھے۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو علم، ادب اور شعور سے گہرا تعلق تھا۔ وہ کتاب دوست انسان تھے اور سیاسی تاریخ، فلسفہ، قومی تحریکوں اور ادب کا وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ ادبی، ثقافتی اور سیاسی محفلوں میں ان کی گفتگو نہایت توجہ سے سنی جاتی تھی۔ ان کی باتوں میں صرف جذبات نہیں بلکہ دلیل، تجربہ اور فکری گہرائی ہوتی تھی۔ صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے، اور وہ ہمیشہ نوجوان نسل کو شعور، مطالعہ اور سیاسی آگاہی کی طرف راغب کرتے تھے۔
ملک امان کاسی کی مہمان نوازی بھی مشہور تھی۔ کوئٹہ آنے والے سیاسی رہنما، شاعر، ادیب، صحافی اور دانشور اکثر ان کے گھر قیام کرتے تھے۔ ان کا گھر صرف ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک فکری اور سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا جہاں ہر وقت علمی، ادبی اور سیاسی نشستیں جاری رہتی تھیں۔ نوجوان ان سے رہنمائی لیتے، بزرگ ان سے مشورہ کرتے اور سیاسی کارکن ان کی گفتگو سے حوصلہ پاتے تھے۔
انہوں نے ہمیشہ پشتون قوم کو اپنی اصل تاریخ، ثقافت، شناخت اور قومی وحدت سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ سمجھتے تھے کہ جب تک پشتون قوم میں شعور، اتحاد اور سیاسی بیداری پیدا نہیں ہوگی، تب تک ترقی اور آزادی کا خواب ادھورا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پوری زندگی پشتون قومی شعور، اتحاد، آزادی اور حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔
ملک امان کاسی جیسے کردار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ آج کے سیاسی ماحول میں ان جیسی صاف گو، مخلص، باوقار اور نظریاتی شخصیات بہت کم نظر آتی ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ قوم، سچائی اور اصولوں کے لیے قربانی دینے کا نام بھی ہے۔
آج اگرچہ ملک امان کاسی ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی فکر، جدوجہد، قربانیاں اور نظریات ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی کیونکہ وہ صرف اپنے وقت کے رہنما نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا مینار بن جاتے ہیں۔